اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر سرینگر میں تین جوانوں کی پر اسرار ہلاکت پر گزشتہ روز وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کی گئی ۔
کشمیر سے ہمارے نامہ گار کی رپورٹ کے مطابق دو روز قبل شمالی ضلع بارہمولہ کے پٹن علاقے سے تین نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین سے تعلق تھا ۔اگرچہ شمالی کشمیر میں مسلسل تیسرے دن بھی احتجاج اور ہڑتال جاری رہی تاہم اس دوران بدھ کو پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کی گئی ۔ اس سلسلے میں حریت کانفرنس(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت(ع) کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت متعدد مزاحتمی لیڈران نے بدھوار16ستمبر کےلئے ہڑتال کی کال دی تھی ۔ ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور بیشترسرکاری و غیر سرکاری دفاتر وغیرہ بند رہے۔
واضح رہے کہ کشمیر میں حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب ہندوستانی حکومت کی جانب سے ریاست میں گائے کے گوشت پر کڑی پابندی عائد کر دی اور اسے ذبح کرنا قانونی جرم قرار دے دیا۔ ریاست کے مسلمان مذہبی طور پر گائے کے گوشت کے حلال ہونے کی بنا پر حکومتی فیصلے کے خلاف پرزور احتجاج کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲